14 فروری 2013 - 20:30

سوریہ میں القاعدہ اور دیگر دھشت گردانہ گروپ ہر روز دھماکے کرتے ہیں کتنے بے گناہوں کا خون کرتے ہیں اس کے باوجود بہت سارے اسلامی ممالک وہاں کے دھشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن بحرین کے شریف اور مظلوم عوام کے مقابلہ میں خاموش ہیں جن کے ہاتھوں میں قرآن اور شہادت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی  ۔ابنا۔ اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کی جنرل کونسل کے ممبر آیت اللہ دری نجف آبادی نے قم مسجد اعظم میں ’’ مظلومیت میں مقاوت کے دوسال ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: بحرین کے مظلوم عوام معمولی امکانات کے ساتھ  ایک بڑے جیل میں زندگی گزار رہے ہیں دوسرے ممالک سے فوج آتی ہیں اور انہیں مار پیٹ کرتی ہیں۔ لیکن یہ عوام ایک پہاڑ کی طرح کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا: بحرینی عوام نے اب تک اپنے انقلاب کی خاطر آل سعود، آل خلیفہ، امریکہ اور اسرائیل کے مقابلہ میں ۱۰۲ افراد کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔انہوں  نے کہا یہ شہداء وہ ہیں جن کا رسمی طور پر اعلان ہوا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی بے چاروں نے اپنی جانوں کو نذرانہ دیا ہے لیکن میڈیا نے انہیں منعکس نہیں کیا اور سینکڑوں ایسے ہیں جو زخمی، زہریلی گیسوں کی وجہ سے مسموم اور روحی اور روانی اذیتوں کا شکار ہیں،اور درد و الم برداشت کر رہے ہیں۔جناب نجف آبادی نے کہا: آل خلیفہ یہ کوشش کر رہی ہے کہ آل سعود کے چاہنے والوں کو بلا بلا کر اس ملک کی نیشنلٹی انہیں دے تاکہ ان کی تعداد شیعوں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے اس کے بعد ان کی اکثریت پر آل خلیفہ کی ظالمانہ حکومت باقی رہے۔اراک کے امام جمعہ نے کہا: سر زمین بحرین علماء فضلاء اور فقہا کا مرکز رہی ہے جنہوں نے نجف اور دوسرے اسلامی مدارس میں علوم آل محمد (ع) کو حاصل کیا اور اس ملک کے لیے سرمایہ خیر ثابت ہوئے۔انہوں نے کہا: ہمارے اوپر فرض بنتا ہے کہ ہم بحرین کے مظلوم عوام کی حمایت کریں اس لیے  کہ «من اصبح و لایهتم بامور المسلمین فلیس بمسلم»، جو صبح کرے اس حال میں کہ مسلمانوں کے امور کے سلسلے میں کوئی اہتمام نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے۔ہم ان سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں  «کونا للمظلوم عونا و للظالم خصما»  مظلوم کے لیے مددگار اور دشمن کے لیے دشمن بنو۔  تمام علماء، مراجع، اساتید، ایران اور جامعۃ المصطفی کے دینی طلاب سب آل خلیفہ سے اظہار نفرت اور بحرینی عوام سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا:بحرین میں تمام ترصیلاتی ذرائع آل خلیفہ کے اختیار میں ہیں وہ صرف اپنے منافع کے مطابق پیام رسانی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا: کیا حقوق بشر کے دعویدار مر گئے ہیں؟ یا یہ کہ ان کے منافع خطرہ میں ہیں اور وہ بحرین کو بھی اپنا اڈہ بنانا چاہتے ہیں؟ کیا اگر سعودیہ اور قطر کے اندر انسانیت کا درد ہوتا تو وہ ظالموں کی حمایت کرتے؟ کب تک وہ ان پلیدگیوں کو پھیلاتے رہیں گے؟ ان چیزوں کی عمر بہت کم ہے۔ کیا ان کے اندر آخرت کا خوف نہیں ہے؟ امام حسین علیہ السلام کے بقول اگر تمہارے اندر دین نہیں ہے تو کم سے کم آزاد رہو۔انہوں نے کہا: کیا اگر یہ ظلم و ستم ان کے بچوں اور عورتوں پر ہوتا تو وہ برداشت کرتے؟ وہ آل سعود جو دعوی کرتا ہے کہ وہ خادم الحدمین ہے کیسے ظلم و ستم کرنے کی اپنے آپ کو اجازت دیتا ہے؟انہوں نے اسلامی ممالک کے علماء کی خاموشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کیوں عربی اور اسلامی ممالک کے علماء خاموش ہیں؟ کیوں وہ ان کی حمایت نہیں کرتے؟ کیوں وہ بحرین کی حمایت میں زبان نہیں کھولتے؟ بلکہ برخلاف، ظالموں کی حمایت کرتے ہیں۔ علماء کی بہت بڑی ذمہ داری ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں وہ کیوں نھی عن المنکر نہیں کرتے؟ مصر کے علماء، سعودیہ کے علماء اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء ان تمام مظالم کو دیکھ رہے ہیں لیکن زبان نہیں کھولتے۔شام میں القاعدہ اور دیگر دھشت گردانہ گروہ ہر آئے دن کئی بے گناہوں کا خون کرتے ہیں لیکن علماء اسلام انہیں کی حمایت کرتے ہیں اور مرنے والوں کو قصور وار ٹھراتے ہیں۔لیکن بحرینی مظلوم عوام کے مقابلہ میں خاموش ہیں جن کے ہاتھوں میں صرف قرآن اور شہادت ہے۔مگر بحرین کے عوام کا مطالبہ کیا ہے ؟ وہ کیاچاہتے ہیں؟ وہ یہی تو کہتے ہیں کہ ہمیں خود اپنے بارے میں فیصلہ کرنے دیں۔نجف آبادی نے رہبر انقلاب کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:  کہ یہ جھوٹ ہے کہ ایران بحرین کی حمایت کرتا ہے اگر ایران بحرین کی حمایت کرتا تو آج پوزیشن کچھ اور ہوتی۔انہوں نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنا شرعی اور انسانی وظیفہ سمجھتا ہے کہ تمام دنیا کے مظلوموں کی حمایت کرے۔ ایران کی فلسطین کی حمایت کرتا ہے کیا فلسطین میں شیعہ ہیں؟آیت اللہ نجف آبادی نےآخر میں کہا: علماء کو چاہیے کہ حدود کو پہچانیں یہاں بحث عرب و عجم یا شیعہ و سنی کی نہیں ہے یہاں گفتگو اسلام محمدی (ص) کی ہے یقینا خدا ہمارے ساتھ ہے خدا بحرین کی مظلوم عوام کے ساتھ ہے۔ یہ اللہ کا قطعی وعدہ ہے: و لینصرن اللہ من ینصرہ‘‘۔